گلوکار مہدی حسن خان صاحب ، دنیا ئے موسیقی کے عظیم فنکار کی داستان ِ حیات

گلوکار مہدی حسن خان صاحب ، دنیا ئے موسیقی کے عظیم فنکار کی داستان ِ حیات

گلوکار مہدی حسن خان صاحب (18 جولائی1927 تا 13 جون 2012) کی زندگی کے نشیب وفراز

گلوکارمہدی حسن، قیام پاکستان کے بعد گزراوقات کے لیے موٹرمکینک بھی بنے، انھوں نے جسمانی ورزش، اکھاڑے میں پہلوانی بھی کی جس کا اظہار انہوں نے فخریہ اپنے انٹرویوز میں کیا۔ ان کا کہنا ہے ” گوّیا بھی پہلوان ہوتا ہے

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

مشی گن ،ڈیٹرائیٹ ، امریکا میں مقیم پاکستان کی نامور قلم کار

دنیائے موسیقی کے عظیم فنکار کی برسی کے موقع پر

گوہر تاج

کی سلسلہ وار پراثر منفرد اور خصوصی تحریر

حصہ دوم

دنیائے موسیقی کا شہنشاہ پہلوانی کے اکھاڑے میں

مہدی حسن خاں صاحب فن موسیقی ہی نہیں فن کشتی کے بھی ماہر تھے، انھوں نے اکھاڑے میں باقاعدہ پہلوانی بھی کی اس مقصد کے لیے وہ ہر روز تین میل کی دوڑ اور دو ہزار بیٹھکیں لگا نے کے علاوہ سات آٹھ آدمیوں سے زور آزمائی بھی کرتے تھے

مہدی حسن خاں صاحب فن موسیقی ہی نہیں فن کشتی کے بھی ماہر تھے، انھوں نے اکھاڑے میں باقاعدہ پہلوانی بھی کی اس مقصد کے لیے وہ ہر روز تین میل کی دوڑ اور دو ہزار بیٹھکیں لگا نے کے علاوہ سات آٹھ آدمیوں سے زور آزمائی بھی کرتے تھے

گلوکار مہدی حسن کی وابستگی موسیقی ہے۔فن موسیقی سے تعلق رکھنے والوں کو بالعموم حساس اور نازک طبع تصور کیا جاتا ہے۔کُشتی اور اکھاڑے سے موسیقی کا ملاپ اکثر کو گراں بھی گزرتا ہے، لیکن موسیقی کے سُروں کی تسخیر کرنے والے مہدی حسن کی جوانی کا خاصا بڑا حصہ جسمانی ورزش اور اکھاڑہ میں گزرا ہے۔جس کا اظہار انہوں نے فخریہ اپنے انٹرویوز میں کیا۔ ان کا کہنا ہے ” گوّیا بھی پہلوان ہوتا ہے “
ان کی گفتگو کے مطابق گاناسانس کا کام ہے۔سانس درست ہو گا تو صحیح گایا جاسکے گا۔ان کے خاندانی طریقے کے مطابق تنفسی نظام کو بہتر بنا کر دراصل گانے کی بنیاد بنائی جاتی ہے۔اس مقصد کے لیے چچا ہر روز باقاعدہ تین میل کی دوڑ اور دو ہزار بیٹھکیں لگواتے تھے۔ اس کے علاوہ سات آٹھ آدمیوں سے زور آزمائی بھی کرواتے جس میں خود مہدی حسن صاحب کا نمبر سات تھا جبکہ بھائی پنڈت غلام قادر کا آٹھواں۔ غذا کا بھی خاص خیال رکھا جاتا تھا۔مثلا چھ سیر دودھ (جو ایک سانس میں ختم کرناہوتا تھا۔)تین پائو یا سیربھر اصلی گھی اور اتنا ہی گوشت کے علاوہ تین پائو بادام روزانہ کی خوراک تھی۔اتنی جسمانی مشقت کے بعد کھانا ہضم کرنا کوئی اتنا مشکل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گلوکار مہدی حسن صاحب نوجوانی میں چھریرے بدن کے تھے۔ بالعموم دوسرے گویوں کے خاندان میں جسمانی مشقت کے ذریعہ سانس کو صحیح رکھنے کا طریقہ مروج نہیں۔بقول مہدی حسن صاحب کہ یہی وجہ ہے کہ سب گویے پچاس پچپن سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ مہدی حسن صاحب نے طویل عمری کے لیے جسمانی مشقت نہیں بلکہ موسیقی کابھی مسلسل ریاض جاری رکھا۔چاہے انہیں عوامی سطح پر فن کے مظاہرہ کا موقع ملا ہو یا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ سُروں کے عشق اور مسلسل ریاض نے انہیں دنیائے موسیقی کو مسخر کر نے کی طاقت دی۔ ان کی اگرآواز بیٹھی ہوئی بھی ہو تو وہ کبھی بے سرے نہیں ہوئے۔
دنیا کے مشہور طبلہ نواز عبدالستار خان تاری نے جوگلوکار مہدی حسن کے سُر کے متوالے ہیں اور ان کے گانے کے ساتھ طبلہ کی سنگت دیتے رہے ہیں کچھ ان الفاظ میں مہدی حسن صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔” ان کے ریاض کی سطح کی وجہ سے چند ہی لوگ اس مقام پر پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مشکل دھنیں ترتیب دیتے تھے۔ ان کے ساتھ طبلہ بجانا بہت مشکل تھا(کیونکہ) ان کی موسیقی میں گم ہو کے یہ بھول جانا آسان تھا کہ آپ کیا کر رہے ہیں اور پھر وہ (مہدی حسن) طبلہ کی مہارت کے متقاضی ہوتے تھے اور ان کے ساتھ طبلہ بجانے کے لیے آپ کو ہمت درکار تھی کیونکہ وہ اگر اچھے موڈ میں ہوں تو گھنٹوں گھنٹوں گاتے، ان کے ساتھ طبلہ بجانا جذباتی اور موسیقیت سے بھرپور سفر ہے۔اکثر ان کے گانے سے میری موسیقی نم ناک ہو جاتی تھی۔“

اگست 1947 ءمیں سرحدی بٹوارہ اور فنکاروں کی تقسیم:۔

 مہدی حسن کی گائیگی کے متوالے مشہور طبلہ نواز عبدالستار خان تاری جو ان کے طبلے کی سنگت دیتے رہے ہیں کہتے ہیں مہدی حسن صاحب کے ریاض کی سطح کی وجہ سے چند ہی لوگ اس مقام پر پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مشکل دھنیں ترتیب دیتے تھے۔ ان کے ساتھ طبلہ بجانا بہت مشکل تھا خاں صاحب اگر اچھے موڈ میں ہوں تو گھنٹوں گھنٹوں گاتے، ان کے ساتھ طبلہ بجانا جذباتی اور موسیقیت سے بھرپور سفر ہے

مہدی حسن کی گائیگی کے متوالے مشہور طبلہ نواز عبدالستار خان تاری جو ان کے طبلے کی سنگت دیتے رہے ہیں کہتے ہیں مہدی حسن صاحب کے ریاض کی سطح کی وجہ سے چند ہی لوگ اس مقام پر پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مشکل دھنیں ترتیب دیتے تھے۔ ان کے ساتھ طبلہ بجانا بہت مشکل تھا خاں صاحب اگر اچھے موڈ میں ہوں تو گھنٹوں گھنٹوں گاتے، ان کے ساتھ طبلہ بجانا جذباتی اور موسیقیت سے بھرپور سفر ہے

کہا جاتا ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، لیکن برطانوی راج کے زوال کے بعد نظریاتی بنیادوں پر ہونے والی برصغیر کی تقسیم نے مختلف مذاہب کے فنکاروں کو بھی بانٹ دیا جس کے بعد مسلمان (اکثر) پاکستان منتقل ہو گئے جن میں مہدی حسن صاحب کا گھرانہ بھی شامل تھا۔ اس وقت ان کی عمر انیس بیس سال تھی۔
جس طرح مہدی حسن صاحب کے گھرانے کو مہاراجوں کی سرپرستی حاصل تھی اسی طرح دوسرے درباروں سے وابستہ فنکاروں کی معاش کا ذریعہ بھی یہی متمول رنچھواڑے (را ج واڑے)، مہاراجے یا جاگیردار تھے مگر اب جاگیرداری نظام بالخصوص انڈیا میں زوال پذیر تھا۔مذہب کے نام پہ ہونے والی تاریخ کی سب سے خونی ہجرت کی وجہ سے دونوں حکومتوں کی حکومتی، معاشی اور سماجی زبوں حالی کا دور تھا۔ ایسے میں فنکاروں کی ہجرت پاکستان یا ہندوستان ہوئی تھی مگر ان کو سراہنے اور پشت پناہی کرنے والے تو سرحد پار ہی رہ گئے تھے۔
ابتد اً پاکستانی نوزائیدہ حکومت کی پالیسی کا رویہ فنکاروں کی قبولیت اور فن کے فروغ کے سلسلے میں مثبت تھا مگر بتدریج قدامت پسندوں کے غلبے سے دھرپد، ٹھمری، تھمرا، دادرا جیسے فن کو جِلا دینے والے جدی پشتی فنکار گھرانے معاشی بدحالی اور عسرت کا شکار ہونے لگے۔درباری گائیک اور گویوں کی تحقیر ” مراثی“کہہ کر کی جانے لگی۔

 مصنفہ  گوہر تاج  مشی گن ،ڈیٹرائیٹ، امریکا میں مقیم پاکستان کی نامور قلم کار ہیں


مصنفہ گوہر تاج مشی گن ،ڈیٹرائیٹ، امریکا میں مقیم پاکستان کی نامور قلم کار ہیں

یہ رویہ ہندوستانی حکومت کے برخلاف تھا، جہاں ٹوٹتے جاگیردارانہ معاشرے کے بکھرتے فنکاروں کو حکومت نے اپنی گود میں پناہ دی۔
جے پور (را جستھان )کے دربار سے کوچ کر کے پاکستان آنے والے مہدی حسن کے والد استاد عظیم خان صاحب اور چچا اسماعیل خان صاحب بھی نئے ملک میں مالی تنگدستی کا شکار ہونے لگے۔ انہی کی طرح موسیقی کے دوسرے گھرانے (یہاں گائیکی کے خاص انداز سے وابستہ افراد مراد ہے) بھی ہجرت کر کے پاکستان آئے جن میں نامور فنکار مثلاًپٹیالہ گھرانے کے استاد برکت علی خان، بڑے غلام علی خان، فتح علی خان، کیرانہ گھرانہ کی روشن آراءبیگم، شام چوراسی گھرانہ کے سلامت علی خان، نزاکت علی خان اور آگرہ گھرانہ کے اسد علی خان وغیرہ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ استاد بڑے غلام علی خان صاحب مالی تنگدستی سے پریشان ہو کر دوبارہ ہندوستان چلے گئے اور بقیہ زندگی کامیابی سے گزاری۔
گلوکار مہدی حسن سب سے پہلے 1946 ءمیں تقسیم سے پہلے ہی چیچہ وطنی (ساہیوال) کے ایک گا¶ں آئے جہاں مہمند گردھاری داس لال صاحب تھے جو پاکپتن شریف کے پاس زمیندار تھے۔اور کلاسیکی موسیقی کے شوقین، ان کے پاس کام کرنے والے ملازم پیارے خان صاحب تھے۔جنہوں نے راجہ جے پور کو خط لکھ کر مہدی حسن صاحب کے خاندان کو بلا بھیجا۔ اس دوران جب ان کے والد عظیم خان پاکستان سے اپنے بقیہ خاندان کو لینے ہندوستان گئے، مہدی حسن صاحب اپنی دادی اور پھوپھی کے پاس رہ گئے۔اس طرح 14 اگست 1947ءمیں پاکستان کو بنتے دیکھا۔
والد عظیم خان صاحب آل اولاد کو پاکستان لے آئے مگر جائیداد نہ لا سکے۔ دربار سے مستقل وابستگی نہ ہونے کے سبب آمدنی کا ذریعہ ختم ہو چکا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ بچا کھچا اثاثہ بھی کم ہونے لگا۔ 1947 سے 1952 تک کا دورانیہ وہ ہے کہ جب مہدی حسن خان صاحب کا موسیقی کا ریاض تو مستقل جا ری تھا مگر کسب معاش اور روزی کے لیے تگ و دو جاری تھی۔ یہاں آ کر غیر معروف گلوکار نے گلوکاری کے سلسلہ میں امید کا دامن خالی نہ ہونے دیا، لہٰذا مسلسل ریاض کے ساتھ ساتھ اپنے والد کی ہدایت کے بموجب اکھاڑے میں کسرت بھی کرتے رہے اور تان پورہ کی مشق بھی جاری رکھی اور روزی کمانے کے لیے حرف شکایت زبان پرلائے بغیر اپنے میں موجود دوسرے ہنر کو آزمانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے زمانے کے ساتھ جنگ شروع کر دی۔ بقول مہدی حسن صاحب” زمانہ تم کو آرام سے آسانی سے روٹی دینے کے لیے تیار نہیں جب تک چھینی نہ جائے۔ میں نے ریاضت کی اور 1947۔ 52 تک وہ کام کیے جو ناممکن تھے۔“
محنت اور عزت سے روزی کمانے میں ایک کام ایسا تھا کہ ان کا جوانی کا شغل تھا اور وقت پہ ان کی کمائی کا ذریعہ بھی بن گیا اور وہ تھا موٹر مکینک کا ٹیکنیکل کام۔

مستری مہدی حسن :۔ 

مہدی حسن خاں صاحب گزر اوقات کے لیے نوجوانی کے دور میں مستری بھی بنے

مہدی حسن خاں صاحب گزر اوقات کے لیے نوجوانی کے دور میں مستری بھی بنے

بڑے فنکار کی اصل عظمت اس میں ہے کہ وہ اپنے ماضی کی غربت سے شرمسار نہیں ہوتا۔ریڈیو پاکستان کے حیات محمد خان کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مہدی حسن صاحب نے اپنی زندگی کے اس دور کا ذکر تفصیل سے کیا کہ جب انہوں نے اپنے باپ عظیم خان صاحب کو جو موسیقی کے استاد تھے ” ٹال والا“ ہونے سے بچالیا اور اس کے لیے انہوں نے خود ”مستری“ بننا قبول کیا۔

Facebook Comments