جس قانون میں آپ نے ترمیم کی اس کا آرمی چیف سے کیا تعلق ہے،سپریم کورٹ

ہمیں پوری کتاب کودیکھناہے ایک مخصوص حصے کونہیں ،آرمی ریگولیشن 255ریٹائرڈ افسکو دوبارہ بحال کرکے سزا دینے سے متعلق ہے

جو ترمیم آرمی رول میں کی، وہ چیف آف آرمی اسٹاف پرلاگو نہیں ہوتی، آرمی چیف کمانڈر ہیں،ایک الگ کیٹیگری ہیں،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

شخصیات ویب نیوز
رپورٹ: ماجد علی سید
جس قانون کے تحت آپنے ترمیم کی اس کا آرمی چیف سے کیا تعلق ہے، آرمی چیف کی مدت ملازمت توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ریمارکس۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آسف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3سالہ توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کررہا ہے، چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ جو ترمیم آرمی رول میں کی، وہ چیف آف آرمی اسٹاف پرلاگو نہیں ہوتی، آرمی چیف کمانڈر ہیں،ایک الگ کیٹیگری ہیں، جسٹس منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل243میں تنخواہ، مراعات، تعیناتی ، مدت ملازمت کا ذکر ہے،کیا چیف آف آرمی اسٹاف حاضر سرونٹ آرمی افسرہونا چاہیے،کیا کوئی ریٹائرڈافسربھی آرمی چیف بن سکتا ہے، آرمی ریگولیشن میں ترامیم کی گئی ہے تو کاپی فراہم کریں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا یہ نئی ریگولیشن کس قانون کے تحت بنی ہے، اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا آرمی رولز کے سیکشن176 کے تحت255 میں ترمیم ہوئی، جس پر جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہمیں پوری کتاب کودیکھناہے ایک مخصوص حصے کونہیں ،آرمی ریگولیشن 255ریٹائرڈ افسرکو دوبارہ بحال کرکے سزا دینے سے متعلق ہے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا سوال ہے تعیناتی میں مدت ملازمت کہاں سے آتی ہے، آرٹیکل 243تعیناتی سے متعلق ہے اور رول 255دوبارہ تعیناتی کا ہے اور استفسار کیا کیا248 کے تحت لیفٹیننٹ جنرل کوآرمی چیف بنایاجاسکتاہے، ایک شخص کی مدت ملازمت ختم ہوتوکیا سٹیٹس ہو۔اٹارنی جنرل نے بتایا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کے عہدے پرترقی دےکربنایاجاتاہے،جسٹس کیانی کامعاملہ کچھ اورتھا، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب جسٹس کیانی نہیں جنرل کیانی تھے، یہ مسئلہ آرٹیکل253 میں حل ہوتاہے ، آرٹیکل 253 کوپڑھ لیتے ہیں، کلاز3کے تحت جنرل کی ریٹائرمنٹ عمریامدت پوری ہونے پرہوتی ہے، وزیراعظم کا اختیار ہے ریٹائرمنٹ کومعطل کرسکتاہے، مگر یہ معطلی ریٹائرمنٹ کے بعد ہوسکتی ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ترمیم آرمی رول میں کی جو چیف آف آرمی اسٹاف پرلاگو نہیں، آرمی چیف افسران سے اوپرہے ایک اسٹاف ہیں، آرمی چیف کمانڈر ہیں،ایک الگ کیٹیگری ہیں، 255 میں آپ نے ترمیم کی آرمی چیف اس کیٹیگری میں نہیں آتے، آرمی چیف ریگولیشن میں ذکرنہیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.