سلیکٹرز کو بھی سوچنا پڑے گا، ان کا تجربہ ناکام ہوگیا، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہمارا سلیکٹڈ وزیراعظم مودی کے جیتنے کی دعائیں مانگتا تھا،تبدیلی سرکار پاکستان اور اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے

جن سے ایک نوٹیفکیشن نہیں بنا وہ چھ ماہ میں ایوان کے بارے میں اتفاق رائے کیسے قائم کریں گے،اس حکومت سے جان چھڑانا ہوگی

شخصیات ویب نیوز
رپورٹ: ماجد علی سید

بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہمارا سلیکٹڈ وزیراعظم مودی کے جیتنے کی دعائیں مانگتا تھا،تبدیلی سرکار پاکستان اور اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔سلیکیٹڈ وزیراعظم کہتا تھا کہ مودی جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا۔خود کو کشمیر کا سفیرکہلانے والا کچھ نہیں کرسکا۔بلاول بھٹوکا کہنا تھا ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں نریندر مودی کو پہچانو، مودی انتہا پسند سوچ رکھتا ہے، بھارتی وزیراعظم ایک انتہا پسند سوچ رکھنے والا شخص ہے، مودی پورے خطے کے امن کیلیے خطرہ ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم کشمیر کے مسئلے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ہر کشمیری کو معلوم ہے کہ شہید بھٹو کشمیرکے حقیقی سفیر تھے۔انہوں نے کہاکہ اس حکومت سے جان چھڑانا ہوگی۔سلیکٹرزکو بھی سوچنا پڑے گاکہ ان کے تجربات صحیح ثابت نہیں ہوئے اور یہ تجربہ ناکام ہوگیاہے،اب عوامی راج لانا پڑے گا۔بلاول بھٹو نے کہاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ اب پارلیمان میں آئے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ جن سے ایک نوٹیفکیشن نہیں بنا وہ چھ ماہ میں ایوان کے بارے میں اتفاق رائے کیسے قائم کریں گے۔مظفرآباد مٰیں پیپلزپارٹی کے 52ویں یوم تاسیس پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہااس سال ستائیس دسمبر کو بی بی شہید کی برسی اسی جگہ پر منائی جائے گی جہاں انہوں نے اپنی جان قربان کی تھی۔انہوں نے ستائیس دسمبر کو لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار پھر وہ علم دوبارہ بلند کریں گے جسے بی بی نے اٹھایا تھا۔انہوں نے کہا کہ نہ تو ہمیں کوئی سلیکٹر منظور ہے نہ ہی کوئی ایسا نظام جس میں عوام کی مرضی شامل نہ ہو۔انہوں نے ایک نئی تحریک کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج سے پارٹی انہیں اصولوں کو دوبارہ اپنائے گی جن پر یہ پارٹی قائم ہوئی۔بلاول نے کہا کہ پیپلزپارٹی کاکشمیر سے رشتہ پہلے دن سے ہے، مقبوضہ کشمیرمیں نوجوانوں کی آنکھیں مسخ کی جارہی ہیں،پیپلزپارٹی نے مسئلہ کشمیرپراہم کرداراداکیا،پیپلزپارٹی ہمیشہ کشمیرکی محافظ رہی۔انہوں نے کہاکہ بھٹو شہید اقوا م متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ رکھتا تو بھارتی سفیر کا پسینہ چھوٹ جاتا تھا۔بھٹو نے اقتدارکو ٹھوکر ماری ،کشمیر پر سودا نہیںکیا۔انہوں نے کہا پیپلز پارٹی امن چاہتی ہے لیکن کشمیر کی قیمت پر نہیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.