خوشہ شاعری

’’غم یا خوشی کا ترجماں تو بھی نہیں میں بھی نہیں‘‘ غزل: ڈاکٹر حنا امبرین طارق

خوشہ شاعری غم یا خوشی کا ترجماں تو بھی نہیں میں بھی نہیں اک دوجے پر ہرگز عیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں بدلا کہیں کچھ بھی نہیں دنیا میں سب کچھ ہے وہی لیکن جدھر تھے کل وہاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں دل تھا ترا ہم تھے ترے، ہر سمت تھیں

Read More

اپنی دھن میں رہنے والے ہم ایسے مستانے لوگ، ڈاکٹر حنا امبرین طارق

ڈاکٹر حنا امبرین طارق اپنی دھن میں رہنے والے ہم ایسے مستانے لوگ دنیا میں کم کم ہی ملتے ہیں ہم جیسے دیوانے لوگ چاک گریباں انکا دل و جاں پارہ پارہ سینہ ہے خونِ جگر اپنا دے کر لکھتے ہیں جو افسانے لوگ ساری راہیں ان رستوں کی ایک ہی جانب جاتی ہیں ڈھونڈتے

Read More

محبت دھوپ میں ہو، چھائوں میں ہو، ایک جیسی ہے

آئرین فرحت محبت دھوپ میں ہو، چھائوں میں ہو، ایک جیسی ہے گلے لگ کے ہو چاہے پائوں میں ہو ایک جیسی ہے کسے دکھ سکھ رہا ہے یاد پھر دن او ر راتوں کا ذرا بھی ڈرکہاں رہتا ہے ملنے والی ماتوں کا محبت میں کہاں ہے فرق اونچی نیچی ذاتوں کا نہیں کچھ

Read More

خوشہ شاعری : صبیحہ صبا اور رضیہ سبحان کی غزلیں

صبیحہ صبا جھلسی ہوئی اک درد کی ماری ہوئی دنیا اک درد کے آسیب سے ہاری ہوئی دنیا قدرت نے سجایا ہے اسے لالہ وگل سے کیا ہم نے دیا جب سے ہماری ہوئی دنیا اک کھیل تماشہ نہیں یہ چیز الگ ہے تم شوق سے لے لو کہ تمہاری ہوئی دنیا ہے اتنی کشش

Read More

Test File

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!

Read More