کراچی والوں کے تہذیبی مرقعے، محبت کی بنیاد پر مخصوص طرز زندگی رکھنے والوں کا شہر

کراچی کا پاکستان بھر میں یہ تاثر قائم تھا کہ عروس البلاد مہذب اور تعلیم یافتہ افراد کا شہر ہے

کراچی میں قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے آنے والوں نے ایک دوسرے کے دکھ ، درد اور خوشی وغم میں شریک ہوکر محبت کی بنیاد پرجس سحرانگیز تہذیب، معاشرت اور ثقافت کو جنم دیا اس کا آج ہم تصور ہی کرسکتے ہیں، گاہے گاہے اس کی جھلک اب بھی نظر آجاتی ہے

Saleem Aazar Chief Editor Shakhsiyaat.com

تربیت کے لیے ہمیشہ دسترخوان کی تربیت کو ترجیح دی جاتی۔مرد و خواتین دسترخوان پر اپنے بچوں کی تربیت کرتے تھے

تحریر: سلیم آذر

کراچی میں دو طرح کے لوگ آباد ہیں۔ ایک کراچی والے دوسرے کراچی میں رہنے والے۔ 1947میں قیام پاکستان کے بعد کراچی میں جس تہذیب، معاشرت اور ثقافت نے جنم لیا اوررفتہ رفتہ پروان چڑھی وہ 1980میں افغان جنگ کے آغاز اور کراچی میں افغانوں کی غیرقانونی آمد،بعد ازاں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی و دہشت گردی کے ساتھ ہی دم توڑ گئی۔
قیام پاکستان کے نتیجے میں ہندوستان کے الگ الگ علاقوں سے ہجرت کرکے کراچی پہنچنے والے مختلف مزاج کے لوگوں نے ایک دوسرے کے دکھ ، درد اور خوشی وغم میں شریک ہوکر محبت کی بنیاد پرجس تہذیب ومعاشرت کی ابتداکی تھی اس کا آج ہم تصور ہی کرسکتے ہیں، اس کی جھلک خال خال ہی نظر آتی ہے۔ ان کراچی والوں کے باہمی اختلاط سے جو سماجی ماحول تشکیل پایا اورجو ثقافت پروان چڑھی اس نے ملک بھر میں کراچی کا سب سے مختلف تاثر قائم کردیا تھا ، عام تاثر تھا کہ کراچی مہذب اور تعلیم یافتہ افراد کا شہر ہے۔یہ تاثر یوں ہی قائم نہیں ہوا تھا۔ اس کے لیے ہندوستان بھر سے آئے ہوئے لوگوں نے بڑی محنت کی۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے کہ ہندوستان بھر سے ہجرت کرکے آنے والے لوگوںنے ایک دوسرے کے دکھ ، درد اور خوشی وغم میں شریک ہوکر محبت کی بنیاد پر مخصوص طرز زندگی کو رواج دیا ، وہ لوگ کسی نہ کسی طرح اپنے بچوں کی تربیت کرتے رہتے تھے، جہاں عام افراد کو اس کا احساس تھا کہ ان کی ان تمیز و تہذیب پر حرف نہ آ ئے، وہاں طبقہ اشرافیہ خاص طور پر زیادہ ہی چوکنا رہتا تھاکہ دوسرے لوگ بچوں کی ناشائستہ حرکتوں پرنام دھریں گے کہ بچوں کو کیسا اٹھایا ہے؟

کراچی کی صاف ستھری سڑکوں اور منظم ٹریفک کا منظر، یہ ہے کراچی کا وہ حسن کہ جب سائیکل سوار بھی ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے تھے

کراچی کی صاف ستھری سڑکوں اور منظم ٹریفک کا منظر، یہ ہے کراچی کا وہ حسن کہ جب سائیکل سوار بھی ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے تھے

پینتیس چالیس برس پہلے کا کراچی آج سے بالکل مختلف تھا۔ اس وقت گھر چھوٹے ہوں یا بڑے مشترکہ خاندان مل جل کر رہتے تھے۔ (اس وقت تک کراچی میں فلیٹوں کا کلچر پنپا نہیں تھا)محلے میں بھی چھوٹوں بڑوںکے حفظ مراتب کا خیال رکھا جاتا۔سارا محلہ ایک خاندان کی طرح ہوتا اورمحلے کے بزرگوں کو رشتوں کی مناسبت ہی سے پکارا بلکہ سمجھا بھی جاتا تھا، کوئی چچا، تایا ہوتا تو کسی کو ماموں پکارا جاتا، کوئی خالہ تو کسی کو پھوپی مانا جاتا تھا۔عجیب بات تھی کہ وہ بھی اپنے آپ کو نہ صرف اسی رشتے میں ڈھال لیتے بلکہ اس طرح نبھاتے کہ کوئی اجنبی شناخت نہیں کرسکتا تھا کہ وہ کوئی غیر ہیں۔ سب اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے لڑکے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر پوری پوری توجہ دیتے تھے۔ کسی کو اعتراض نہ ہوتا کہ ہمارے بچے کو کیوں ٹوکا، کیسے ڈانٹا۔ اگر کوئی بڑا تنبیہ کرتا یا سمجھاتا تو گھر کا دوسرا شخص خاموشی سے کھڑا دیکھتا رہتا۔ درمیان میں کسی بات میں دخل نہ دیتا اور بعد میں سمجھاتے کہ تم غلط حرکت کرتے نہ وہ تمہیں ٹوکتے،آئندہ خیال رکھنا، ایسا نہ ہو کہ پھر کسی بات پر سخت سست کہیں اور چھوٹے بھی سنی اَن سنی نہ کرتے۔ خواتین گھروں میں بچوں، بالخصوص لڑکیوں پر نظر رکھتیں، مرد گلی کوچے میں آنے جانے والے لڑکوں پر۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی بچہ بری صحبت میں پڑ کر پیٹ سے پاو ¿ں نکالے۔
تربیت کے لیے ہمیشہ دسترخوان کی تربیت کو ترجیح دی جاتی۔مرد و خواتین دسترخوان پر اپنے بچوں کی تربیت کرتے تھے۔ کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے کوئی غلط حرکت یا معیوب بات دیکھتے تو روکتے ٹوکتے تھے۔
”دسترخوان“ کسی بھی فرد، خاندان کی مکمل تہذیب کا پیمانہ ہے۔کوئی کس طرح کھاتا ہے، کیسے پیتا ہے۔ دسترخوان (اب کھانے کی میز بھی ہم تصور کرسکتے ہیں) پرکھانا کھانے کے انداز سے پتہ چل جاتا کہ لڑکا حریص ہے یا بدنیت، خوش اطوار اور خوش مزاج ہے یا غصیل، زود رنج ہے یا مغلوب الغضب!

کراچی میں قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے آنے والوں نے ایک دوسرے کے دکھ ، درد اور خوشی وغم میں شریک ہوکر محبت کی بنیاد پرجس سحرانگیز تہذیب، معاشرت اور ثقافت کو جنم دیا اس کا آج ہم تصور ہی کرسکتے ہیں، گاہے گاہے اس کی جھلک اب بھی نظر آجاتی ہے

کراچی میں قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے آنے والوں نے ایک دوسرے کے دکھ ، درد اور خوشی وغم میں شریک ہوکر محبت کی بنیاد پرجس سحرانگیز تہذیب، معاشرت اور ثقافت کو جنم دیا اس کا آج ہم تصور ہی کرسکتے ہیں، گاہے گاہے اس کی جھلک اب بھی نظر آجاتی ہے

اب تو خیرکراچی میں آج کل گھروں سے باہر کھانے کا عام رواج ہوچلا ہے۔ خواتین اور بچوں سمیت خاندان بھر کے سب چھوٹے بڑے افراد مل کر ہوٹل جاتے اور رغبت سے کھانا کھاتے ہیں۔ ہرچھوٹے بڑے شہر کی طرح کراچی میں بھی فوڈ اسٹریٹ قائم ہوگئی ہیں۔ یوں تو قیام پاکستان کے فوراً بعد، لائنز ایریا اور برنس روڈ پر کباب، دہی بڑے، گول گپے، چھولے چاٹ، نہاری، پائے ، بریانی،دالیں اور طرح طرح کے کھانوں کی مشہور اورعام دکانیں تھیں مگر یوں خاندان بھر کے افراد کا اکٹھے ہوٹل میں بیٹھ کر کھانے کا رواج نہیں تھا، زیادہ تر مرد حضرات ہی اپنے دوستوں یا خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کرہوٹل میں کھانے پینے جاتے تھے۔ اب شہرکی تہذیب، معاشرت ،ثقافت اورسماجی زندگی بالکل ہی بدل گئی ہے۔ اب وہ محبتیں ہیں نہ تہذیب و معاشرت، نہ محلے کی رشتے داریاں اور نہ ثقافت کے وہ مرقعے جن کے لیے کراچی خاص شہرت رکھتا تھا۔اب تو بچوں کو روکنے ٹوکنے کا بھی چلن نہیں رہا۔ اول تو خود بچے ہی ترنت جواب داغ دیتے ہیں کہ بڑے میاں اپنے کام سے کام رکھو، ہمارے معاملے میں مداخلت کی کوشش نہ کرو۔ اگر بچے جواب نہ دیں تو ان کے بڑے اپنے بچوں کی حمایت میں لڑنے مرنے آجاتے ہیں۔اب تہذیب نہیں ایک منتشر ہجوم رہ گیا ہے، میدان حشر کا سا ماحول ہے ، جہاں سب کواپنی اپنی پڑی ہوئی ہے، دوسرے کی کسی کو فکر ہی نہیں۔
پہلے لوگ دوسروں کے لیے ضرور وقت نکالتے تھے خصوصاً گھر کے سب افراد دن میں ایک بار ضروراکٹھے ہوتے اور آپس میں مسائل اور دکھ درد شیئر کرتے،صبح سے رات تک ایک ہی وقت ایسا ہوتا جب گھر کے سب بڑے چھوٹے دسترخوان پر یکجا ہوتے۔ دسترخوان چننے سے ”بڑھانے“ تک گھر کے بڑے چھوٹوں کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیتے۔ گھر کی بڑی لڑکی دسترخوان بچھاتی، دوسری لڑکیاں کھانے کے مطابق پلیٹیں، ڈشیں، پیالے، پیالیاں، چھوٹے بڑے چمچے لاکر سلیقہ سے دسترخوان سجانے اور کھانا چ ±ننے میں مدد کرتیں۔ کھانے کی ڈشیں آنے سے پیشتر سفل دان اور مغزکش بھی چمچوں کے ساتھ رکھ دیے جاتے۔آج لوگ ان سے واقف ہی نہیں کیوں کہ اس کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ سفل دان ، ڈھکن والا گول پیالے یا کٹورے نما ایک برتن تھا جس کے ڈھکن پر برجی بنی ہوئی ہوتی، اس کا پیندہ سپاٹ ہوتا، عام طور پر تام چینی یا المونیم کے بنے ہوئے ہوتے جو نوالے میں کوئی ہڈی کا ٹکڑا آجائے یا گوشت کا ریشہ دانتوں میں پھنس جائے یا کوئی ایسی چیز جو چبائی نہ جائے تو وہ اس کے رکھنے کے لیے استعمال میںآتا۔مغزکش سے نلی کا گودا نکالا جاتا تھا۔ یہ نالی دار چمچہ تھا، ایک ٹوتھ برش کی مانند سیدھا،آدھا حصہ پتلا اورآدھا چوڑا۔ اسے گودے کی نلی میں داخل کرکے آہستہ سے باہر کھینچتے تو نالی دار حصہ میں گودا یا مغزآجاتا۔ نلی کو جھاڑنے توڑنے یا ٹھونکنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہ اسٹیل یا چاندی کے بنائے جاتے تھے۔ اب نہ سفل دان ہیں اور نہ مغزکش، کوئی ان سے واقف بھی نہیں بلکہ اب وہ کھانے ہی نہیں جن میں نلی استعمال ہو، پائے میں اگر نلی آجائے تو ٹھونک ٹھونک کراس میں سے گودا نکالتے ہیں۔ دسترخوان کے لوازمات کے ساتھ ایک بڑی سینی (گول ٹرے) میں پانی کا جگ، کٹورے، گلاس دسترخوان کے بائیں جانب آخری سرے پر رکھ دیے جاتے۔ پہلے گھر کا کوئی بزرگ (مرد) دسترخوان کے سامنے درمیان میںآکر بیٹھتا، ان کی دائیں جانب خواتین مراتب کے اعتبار سے بیٹھتیں اور اسی طرح مرد بائیں جانب۔ دسترخوان کے دوسری طرف گھر کے لڑکے لڑکیاں مودب انداز میں بیٹھتے۔ خواتین کے سامنے لڑکیاں، مردوں کے سامنے چھوٹے بڑے لڑکے ہوتے۔ گھر میں اگر مہمان آتے تو وہ بزرگ کے ساتھ بیٹھتے۔ مہمان زیادہ ہوں تو پہلے مہمانوں کی تواضع کی جاتی اور گھر کی خواتین بعد میں کھانا کھاتیں۔ گھر کی بڑی بہو یا لڑکی تانبے کی قلعی دار قابوں(ڈشوں) میں کھانے کی اشیا لاتیں۔ مردوں اور عورتوں کے سامنے علیحدہ علیحدہ ڈشیںپیش کی جاتیں۔ بعض گھروں میں تانبے کے برتنوں کے ساتھ چینی یا بلوری برتن بھی ہوتے اور کھانوں کی مناسبت سے اچار، چٹنی اور رائتے کی پیالیاں بھی۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے زانو پوش گھٹنوں پر ڈالتے۔ بچوں سے کہا جاتا کہ وہ بائیں جانب اپنا اپنا رومال رکھیں۔ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کیا جاتا۔ خواتین چنگیری سے روٹیاں نکال کر دیتیں۔ چنگیری، روٹی رکھنے کی ٹوکری تانبے کی قلعی دار، کھجوریا بید کی بنی ہوئی ہوتی اور اس میں بڑے رومال میں لپیٹ کر روٹیاں رکھتے۔ بڑے چھوٹوں کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھتے رہتے۔ کسی کا بڑا لقمہ دیکھا اور ٹوکا ”بیٹا چھوٹا نوالہ بناو ¿،، گال پھولا ہوا نظر نہ آئے، چباتے وقت منہ بند رہے، چپڑ چپڑ کی آواز نہ ہو، سالن شوربے میں ناخن نہ ڈوبیں، پلیٹ میں ایک طرف سے کھانا، ہاتھ نہ بھریں، جلدی جلدی نہ کھاو ¿ آخر تک پلیٹ میں رونق رہے، بوٹی یا سبزی کا ایک حصہ آخری لقمے میں لینا“۔ اسی طرح پانی پیتے وقت کہا جاتا ”لمبا گھونٹ نہ لو، چھوٹے چھوٹے گھونٹ میں تین مرتبہ پانی پیو“۔

تربیت کے لیے ہمیشہ دسترخوان کی تربیت کو ترجیح دی جاتی۔مرد و خواتین دسترخوان پر اپنے بچوں کی تربیت کرتے تھے

تربیت کے لیے ہمیشہ دسترخوان کی تربیت کو ترجیح دی جاتی۔مرد و خواتین دسترخوان پر اپنے بچوں کی تربیت کرتے تھے

بریانی، پلائو یا چاول عام طور پر چمچے کے بجائے ہاتھ سے کھاتے، انگلیاں چکنی ہو جاتیں۔ پانی پینے کی ضرورت پیش آتی تو بائیں ہاتھ سے گلاس یا کٹورا اٹھانے کی ہدایت دی جاتی اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کا سہارا دے کر پانی پینے کے لیے کہتے، تاکہ دائیں ہاتھ میں لگی ہوئی چکنائی سے گلاس، کٹورہ خراب نہ ہو۔ جو بچہ نوالے سے زائد روٹی توڑتا اور پھر اس کے ٹکڑے کرتا، اسے بدتمیزی سمجھا جاتا۔ کھاتے کھاتے منہ میں ہڈی کا ٹکڑا، بوٹی کا ریشہ یا گرم مصالحے میں سے لونگ یا سیاہ مرچ آ جاتی تو بچوں سے کہتے، پہلے دایاں ہاتھ منہ کے سامنے لاو ¿، پھر بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور ساتھ (شہادت)کی انگلی سے اس شے کو نکالو، چھنگلی اور اس کے برابر والی انگلی سے سفل دان کے ڈھکن کی برجی پکڑ کر ڈھکنا اٹھاو ¿اور آہستہ سے وہ شے ڈال کر ڈھکن سے ڈھانک دو۔دسترخوان پر اگر کباب ہوتے اور کوئی بچہ طشتری سے کباب اٹھاکر روٹی پر رکھ کر کھانے کی کوشش کرتا تو اسے معیوب سمجھتے۔ بڑے بچوں کو سکھاتے تھے کہ کھاتے وقت دوسروں کے کھانے پر نظر نہ ڈالو، اپنے آگے جو رکھا ہوا ہے اسے دیکھو۔ کسی دوسرے دسترخوان پر کھانا ہو تو جو میزبان پیش کرے، اسے خوشی کے ساتھ کھاو ¿۔ مرچ تیز، نمک پھیکا ہو تو اسے ظاہر نہ کرو۔ کسی کھانے میں عیب نکالنا بری بات ہے۔ غمی کے کھانے میں روٹی بوٹی کی فرمائش نہ کرنا۔ چند لقمے کھانا۔ اگر تمہاری پلیٹ میں نلی آ جائے اور دسترخوان پر مغزکش نہ ہو تو اسے رکابی یا روٹی پر نہ جھاڑنا، نہ منہ سے چوسنا۔
خواتین لڑکیوں کو ٹوکتیں کہ سلیقے سے کھائو، دوسرے گھر جانا ہے، لوگ کیا کہیں گے کہ ماں باپ نے کچھ سکھایا نہیں۔ مائیں بیٹیوں کی پکائی ہوئی روٹیوں کو خاص طور پر دیکھتیں، کہیں روٹی کی ساخت یا ہیئت مختلف دیکھی تو جھٹ کہا، ارے یہ کیا ایک ہاتھ کی روٹی ایک چھوٹی ایک موٹی، سسرال والے نام دھریں گے۔ جہاں لڑکی دس گیارہ برس کی ہوئی نہیں کہ اسے کھانا پکانے، سینے پرونے، کاڑھنے اور ب ±ننے پر لگا دیا۔ تربیت کے ساتھ ساتھ تلقین بھی ہوتی، بیٹا! جتنا خوش ذائقہ کھانا پکاو ¿گی، اتنی سرخ رو ہوگی۔ لذیذ کھانا کھا کر لوگ دوسرے کے دسترخوان پر تذکرہ کرتے کہ فلاں جگہ جو قورمہ کھایا تھا، ویسا آج تک نہیں کھایا۔ فلاںصاحب کے یہاں اتنی لذیذ بریانی پکتی ہے کہ ان کے سامنے نامی گرامی باورچی پانی بھریں۔ ”بیٹی معدے کے راستے دل میں گھر کرتے ہیں۔ یاد رکھو! منہ کھائے آنکھ لجائے۔ بیٹا کھانا گھی نون مرچ کا نام نہیں، کھانا پکتا ہے شوق سے اور پورے ہوش سے، جب ہی دوسرے کے منہ کو لگے گا۔“
قریبی عزیزوں میں بیٹیاں بیاہتے وقت چھان بین نہیں کرتے تھے، کیوں کہ سب دیکھے بھالے ہوتے تھے، لیکن کسی دوسرے خاندان یا برادری سے کوئی رشتہ آتا توآسانی سے ”ہاں“ نہیں کرتے۔ لڑکے کے متعلق تفتیش و تحقیق کراتے۔ کوشش کرتے، کسی طرح اسے دسترخوان پر دیکھ لیں۔ کھانا کھانے کے انداز سے لڑکے کی تہذیب اوراس کے خاندان کی تربیت کا پتہ چل جاتا۔
ہمیں بھی یہی سکھایا گیا کہ دسترخوان پر جو کم درجے کی چیز ہو، پہلے وہ کھاو ¿، کبھی دو کھانے ملا کر نہیں کھاتے۔ اب لوگ روزی روٹی میں ایسے الجھے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت سے غافل ہوگئے ہیں، کراچی میں رہنے والوں کے اختلاط اورمسابقت سے کراچی والوں کی اپنی تہذیب بھی کہیں جاسوئی ہے۔ پھر چینلز کی بھرمار ، برگر، تکے، بار بی کیو، پیزا ہٹ اور فوڈ اسٹریٹ نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے ، باپ مشرق تو بیٹا مغرب ،نہ بڑوں کی قدر نہ لحاظ۔ بڑے ہی جب چھوٹوں کے رنگ میں رنگ گئے تو کون کسے کیا سکھائے، کیا بتائے۔ کسی کو ٹوکنا روکنا خود اپنے منہ پر تھپڑ مارنا ہے۔ اب کراچی وہ کراچی نہیں رہا، نہ تمیز نہ تہذیب!! کسی نے سچ کہا ہے کہ ”دونوں ہاتھ سے برگر پکڑ کر بھنبھوڑنے والے کیا جانیں کہ آدابِ طعام کیا ہوتے ہیں؟

سلیم آذر

سلیم آذر

Facebook Comments

POST A COMMENT.